کلامِ طاہر — Page 161
قابل دید مقامات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ماشاء اللہ آپ کو یہ خوب فن عطا ہوا ہے۔اللہ آپ کی ذہنی قلبی صلاحیتوں کو اور بھی چمکائے اور روشن تر فرمائے۔خلاصہ آخری بات کا یہی ہے کہ اگر آپ متوجہ نہ کراتیں تو شاید اپنے کلام پر نظر ثانی کی توفیق ہی نہ ملتی۔اور ملتی بھی تو بہت محنت کرنی پڑتی۔آپ نے تو ایک ایک جگہ جہاں ضرورت تھی کہ توجہ کی جائے ہاتھ لگا لگا کر دکھا دی۔امید ہے جب باقی مسودہ آئے گا تو پھر باقی کام بھی انشاء اللہ اسی طرح آسان ہو جائے گا۔اب تو اس کی شدت سے انتظار ہے۔ابھی تک تو آپ نے بھیجا ہی نہیں حالانکہ اب تک دیر کرنے کا دوش مجھ پر رہا۔۔امید ہے جب آپ کلام شائع کرائیں گی تو وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مستند ہوگا اور وہ لوگ جو اپنی طرف سے نئے نئے نمونے شائع کراتے رہتے ہیں وہ سلسلہ اب ختم ہو جائے گا۔اللہ آپ کے ساتھ ہو۔(مكتوب ۲۸ فروری ۱۹۹۳) شوکت مضمون اور کیفیات کی لطافت کی چند مثالیں جو مشورے حضور پُر نور کو بھجوائے تھے ان میں محترم محمد سلیم صاحب شاہجہانپوری کی آراء بھی شامل تھیں۔حضور نے ہمیں فن شعر اور فن اصلاح، خاص طور پر اشعار میں مضامین کے بیان کی اہمیت سمجھائی۔یہ اس لائق ہے کہ اعلیٰ پائے کی تنقیدی کتب میں جگہ پائے۔آپ نے تحریر فرمایا: وو شعر کی دنیا اس سے زیادہ وسیع ہے کہ زبان درست ہو اور غلطیوں سے پاک ہو اور محاورہ ٹکسالی کا ہو اور اوزان کے لحاظ سے اور لفظوں کے استعمال کے لحاظ سے کلام نوک زبان پر بھاری نہ ہو۔بعض اوقات صحت زبان اور صحت محاورہ کے تقاضے جذبات کی شدت کے اظہار اور اظہار حق سے متصادم ہو جاتے ہیں یعنی اظہار حق جس زبان میں ممکن ہو اس سے بہتر مرصع زبان میں مگر حق سے کچھ ہٹ کر ایک بات کی جاسکتی ہے۔بعض دفعہ ممکن نہیں رہتا کہ بیک وقت کوئی اپنے متموج جذبات اور سچائی اور گہرے درد کے تقاضے پورے کرتے ہوئے زبان کی صحت اور قاعدے قانون کی پابندی کا بھی حق ادا کر سکے۔ایسی صورت میں کبھی کبھی کچھ نہ کچھ مروج قاعدوں کوتوڑنا 7