کلامِ طاہر — Page 151
یہ دو آنکھیں ہیں شعلہ زا دو آنکھیں ھیں ہیں شعلہ زا۔یا جلتے ہیں پروانے دو اشک ندامت پھوٹ پڑے۔یا ٹوٹ گئے پیمانے دو تو مری موجودگی میں تم اکتائے سے سے رہتے تھے اب میرے بعد تمہارا دل گھبرائے گا گھبرانے دو دکھ اتنے دیئے میں سہہ نہ سکا یوں زیست کا رشتہ ٹوٹ گیا اب اپنے کئے پر ظالم دل پچھتاتا ہے پچھتانے دو خوش ہو کے کرو رخصت دیکھو۔تم ناحق اپنی پلکوں پر جو اشک سجائے بیٹھے ہو۔ان اشکوں کو ڈھل جانے دو ر کر بھی مرا ، یہ بھیگی آنکھیں ، چین اڑادیں گی۔تو یہ مجھے چراغ سجاؤ گے میرے مرقد کے سرہانے دو نیند آئی ہے تھک ہار چکا ہوں چھوڑو بھی پچھلی باتیں میں رات بہت جاگا ہوں ، اب تو ، صبح تلک سستانے دو (۱۹۴۴) 151