کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 117 of 265

کلامِ طاہر — Page 117

جانتا کون ہمارے دل شوریدہ کا خواب دیکھتا کون جو ہم دونوں نے دیکھا ہوتا یوں ہی چھپ چھپ کے میلا کرتے پس پردہ دل دل ہی دل میں کیسے معلوم ! یوں ہی بڑھتی چلی جاتی رہ و رسم الفت کیا کیا ہوتا ہم نے جی کھول کے اک دوجے کو چاہا ہوتا دل دھڑکتے جو کبھی راہ میں ملتے سر عام مجھ سے تم بے دھڑک پیار کے اظہار کا دھڑکا ہوتا ثم نظریں چرا لیتے بدن لیا کر پھر مجھے دیکھتے ایسے کہ نہ دیکھا ہوتا ادار دل کو لبھاتی تو ستاتی بھی بہت سوچتا تم نہ مرے ہوتے تو پھر کیا ہوتا میرے سب خواب بکھر جاتے سرابوں میں۔بس ایک ہر طرف پھیلا ہوا اس تصور سے کہ تم چھوڑ کے جاتے تو سدا عالم صحرا ہوتا دل محبت کی اک اک بوند کو ترسا ہوتا