کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page viii of 265

کلامِ طاہر — Page viii

55 58 60 62 64 66 68 71 77 لا لا لا له چای من 74 79 81 85 87 93 94 97 22 55 83 89 99 101 103 20 یہ دل نے کس کو یاد کیا، سپنوں میں یہ کون آیا ہے 21 ان کو شکوہ ہے کہ ہجر میں کیوں تڑپایا ساری رات جائیں جائیں ہم روٹھ گئے ، اب آکر پیار جتائے ہیں 23 وقت کم ہے۔بہت ہیں کام۔چلو 24 جو درد سسکتے ہوئے حرفوں میں ڈھلا ہے 25 گھٹا کرم کی، ہجوم بلا سے اُٹھی ہے 26 اپنے دیس میں اپنی بستی میں اک اپنا بھی تو گھر تھا 27 کبھی اذن ہو تو عاشق دریار تک تو پہنچے نہ وہ تم بدلے نہ ہم، طور ہمارے ہیں وہی 29 تری بقا کا سفر تھا قدم قدم اعجاز 30 ہے حسن میں ضو غم کے شراروں کے سہارے 31 یہ پُر اسرار دھندلکوں میں سمویا ہوا غم 32 33 34 35 بہار آئی ہے ، دل و قف یار کر دیکھو ہیں آسمان کے تارے گواہ، سورج چاند تو خوں میں نہائے ہوئے ٹیلوں کا وطن ہے جب اپنی راہ اُس کے فرشتے کریں گے صاف 36 آؤ سجنو مل ہی۔تے گل اوس یار دی چلتے 37 مرے درد کی جو دوا کرے، کوئی ایسا شخص ہوا کرے 38 اک برگد کی چھاؤں کے نیچے 39 خدا کرے کہ مرے اک بھی ہم وطن کے لیے اذانیں دے کے دُکھاؤ نہ دل خدا کے لئے