کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 62 of 265

کلامِ طاہر — Page 62

ہو تمہی کل کے قافلہ <mark>سا</mark>لار وقت کم ہے۔بہت ہیں کام۔چلو ملگجی سجی ہو رہی ہے شام۔چلو زندگی اس طرح تمام نہ ہو کام رہ جائیں ناتمام - چلو کہہ رہا ہے خرامِ بادِ صبا منزلیں جب تلک دم چلے مُدام چلو شام چلو دے رہی ہیں آوازیں صُبح محو سفر ہو ،۔چلو <mark>سا</mark>تھیو! میرے <mark>سا</mark>تھ <mark>سا</mark>تھ رہو قُربتوں کا لئے پیام تم اُٹھے ہو تو لاکھ اُجالے اُٹھے تم چلے ہو تو برق گام چلو کبھی ٹھہرو تو مثلِ ابرِ بہار جب برس جائے فیض عام۔چلو رات جاگو مہ و نجوم کے <mark>سا</mark>تھ دن کو سورج سے ہم خرام چلو ہو تمہی کل کے قافلہ <mark>سا</mark>لار آج بھی ہو تمہی امام۔چلو تم سے وابستہ ہے جہانِ نو تمہیں سونپی گئی آگے بڑھ کر قدم تو لو زمام - چلو۔دیکھو ہے تمہارے نام۔چلو عبد 62