کلامِ طاہر — Page 61
جو صبح کا رستہ تکتے تکتے ، اندھیاروں میں خواب ہوئے اُن کے بعد آپ اُن کے لئے ، کیا خاک سویرے لائے ہیں ہم نے تو آپ کو اپنا اپنا کہہ کر لاکھ بلا بھیجا اس پر بھی آپ نہیں آئے ، آپ اپنے ہیں کہ پرائے ہیں اب آپ کی باری ہے تڑپیں ، اب آپ ہمیں آوازیں دیں سوتے میں نہیں روتے جاگیں کہ خواب ملن کے آئے ہیں ہم جن راہوں پر مارے گئے سچ کی روشن راہیں تھیں ظالم نے اپنے ظلم سے خود ، اپنے ہی افق دھندلائے ہیں وہ ہم ابھی بسے ہیں اپنے خوابوں کی سرمد تعبیروں میں آپ اب ہر خوشبو اور ہر رنگ کے لاکھوں پھول کھلے ہیں آنگن میں پھر چند گلوں کی یادیں کیوں ، کانٹوں کی طرح تڑپائے ہیں تک فانی دنیا میں ، سپنوں سے دل بہلائے ہیں ہم سر افراز ہوئے رُخصت ، ہے آپ سے بھی امید بہت یہ یاد رہے کس باپ کے بیٹے ہیں ، کس ماں کے جائے ہیں (جلسہ سالانہ جرمنی ۱۹۹۰ء) 61