کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page v of 265

کلامِ طاہر — Page v

عرض حال خدا تعالیٰ کا احسان ہے کہ لجنہ اماءاللہ ضلع کراچی کو نظر ثانی شدہ کلام طا ہر حتی المقد در حسن صورت کے ساتھ شائع کرنے کی سعادت نصیب ہو رہی ہے۔قبل ازیں شائع شدہ کلام ولا سر دیکھ کر خیال آتا یہ مئے عرفان اور یہ جام کچھ توشایان شان ہونا چاہیے۔اپنی بضاعتی کے اس پر کچھ قابو پاک حضور حمد اللہ کی خدمت میں شاعت کی اجازت مرحمت فرمانے کی درخواست کر دی۔اب فقط اتنا یاد ہے کہ کھل جاسم سم، میں نے کہا تھا پر چکا چوند خزانوں کی بھیڑ یں ایسا کھوئی کہ اب واپس آنے کا ہوش ہے نہ ارادہ۔حضور پر نور نے نظر ثانی کی ضرورت کا ذکر فرمایا اور پھر فاکسر کی درخواستوں پر وقت نکال کر از داو شفقت نظرثانی فرمائی۔خاکسار کی خوش قسمتی کہ اس سلسلے میں آپ جیسے بلند پایہ منی شناس سے کچھ قلمی گفتگو رہی تنقید کی نیم کتب پر بھاری ایک ایک جملہ۔الفاظ کی تراش اور انتخاب کے اسلوب سمجھاتا ہوا۔مفاہیم کا سمندر سموئے ایک ایک شعر آپ کی نکتہ پروری، فن پر گرفت اور عارفانہ نظر کی ما در ایر بہت قائید نہی ہے۔خیرات ہو مجھ کو بھی اک جلوہ عام اس کا پھر یوں ہو کہ ہو دل پر الہام کلام اس کا آپ کے کلام کی تہ تک اترنا، وسعتوں کو پانا اور رفعتوں تک نگاہ کر ناصرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ کوئی وہ تمام سفر آپ کے دل و نظر کے ساتھ طے کرے جو آپ نے اللہ پاک کی انگلی پکڑ کر کیا ہے۔اس لئے تحسین کا حق ادا کرنا متبادکان سے باہر ہے۔اس سے آگے قلم کے قدم نہیں اُٹھتے۔اس بابرکت کام میں تعاون کرنے والوں کے لئے نہ دل سے ممنونیت کے ساتھ دعا کی درخواست کرتی ہوں۔فجزاهم الله تعالى احسن الجزاء في الدارين خيراً