کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 28 of 265

کلامِ طاہر — Page 28

پھول تم پر فرشتے نچھاور کریں آئے وہ دن کہ ہم جن کی چاہت میں گنتے تھے دن اپنی تسکین جاں کے لئے پھر وہ چہرے ہویدا ہوئے جن کی یادیں قیامت تھیں قلب تپاں کے لئے جن کے اخلاص اور پیار کی ہر ادا ، بے غرض ، بے ریا ، دلنشیں ، دلربا بے صدا جن کی آنکھوں کا کرب و بلا ، کربلا ہے دل عاشقاں کے لئے پیار کے پھول دل میں سجائے ہوئے ، نور ایماں کی شمعیں اُٹھائے ہوئے قافلے دور دیسوں سے آئے ہوئے ، غمزدہ اک بدلیں آشیاں کے لئے ویر کے بعد اے ڈور کی راہ سے آنے والو ! تمہارے قدم کیوں نہ لیں میری ترسی نگاہیں کہ تھیں منتظر ، اک زمانے سے اس کارواں کے سئے پھول تم پر فرشتے نچھاور کریں ، اور کشادہ ترقی کی راہیں کریں آرزوئیں مری جو دُعائیں کریں ، رنگ لائیں میرے مہماں کے لئے 28