کلامِ طاہر — Page 196
ہوئے صوتی لحاظ سے اس کی آواز جس طرح بننی چاہئے اس کی وضاحت کے لئے اس طرح لکھا گیا ہے۔✰✰✰۔۔۔۔☆ ( مكتوب ۹۳-۵-۱۵ صفحه ۱۱۸ خاکسار نے ان ہدایات کے مطابق الفاظ معنی کو Balance کیا۔انگریزی تلفظ اور معانی دئے اور آپ کی خدمت اقدس میں روانہ کئے۔آپ نے ایک ایک لفظ کا جائزہ لیا۔آپ کے ساتھ ایک ٹیم کام کرتی تھی۔جو اصلاحوں کو نوٹ کر کے کمپوز کر کے مجھے بھجوا دیتی۔الفاظ معنی کی درستی کے بعد کمپوزنگ کا مسئلہ تھا اور کمپوزنگ سے بڑھ کر پروف ریڈنگ کا جس میں آخر تک کچھ نہ کچھ خامیاں رہیں۔جولائی ۱۹۹۵ء میں جلسہ سالانہ پر کتاب بھیجنے کے جنون نے دن رات کام پر لگائے رکھا۔صفحہ کے ڈیزائن اور سائز تک کی منظوری حضور سے لی۔طباعت کے کام میں سر دینے والے ہی اندازہ کر سکتے ہیں کہ قدم قدم پر کیسی کیسی دشواریاں راستہ روک کر کھڑی ہو جاتی ہیں اور پھر کراچی کے مخصوص حالات میں ایسی جگہوں پر صبر آزما د ریگتی رہی جو پہلے سوچا بھی نہیں تھا۔مولا کریم کے فضل و احسان سے ۱۹؍ جولائی ۱۹۹۵ء کو کتاب چھپ کر آ گئی۔اور جلسہ سالانہ پر حضور رحمہ اللہ کی خدمت میں ہماری قائم مقام صدرامتہ الحفیظ بھٹی صاحبہ نے پیش کی حضور نے پسندیدگی کا اظہار فرمایا اور دعائیں دیں۔اس کام میں محترمہ سلیمہ میر صاحبہ صدر لجنہ کی سرپرستی حاصل رہی۔برکت ناصر صاحبہ نے کلام جمع کرنے میں مدد دی۔محترم سلیم شاہجہانپوری صاحب نے کلام اور گلاسری(Glossary) دونوں کی نظر ثانی کی۔محترم عبید اللہ علیم صاحب نے قیمتی مشوروں سے نوازا اور طباعت میں شیخ داؤ د احمد صاحب نے محنت کی۔فجزاهم الله تعالى الاحسن الجزك۔☆ ☆ ☆۔۔۔۔۔۔42