کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 194 of 265

کلامِ طاہر — Page 194

قسم کے فیوض کا اجراء جس کی ذات سے وابستہ ہو جائے۔یہ معنی ہیں جو کھول کر بیان کرنے چاہئیں۔“ (مکتوب ۱۵۔۵۔۹۳ صفحه ۱۹) حمد الفظ مہک کے متعلق آپ کی بات درست ہے۔یہ مہک اور مہک دونوں طرح آ جاتا ہے۔مگر مجھے تو مہک سے زیادہ لگاؤ ہے اور ہمارے گھروں میں بھی مہک ہی پڑھا جاتا تھا۔لیکن اہل زبان ح ، و ھ سے پہلے زبر آجائے تو اس میں امالہ بھی کرتے ہیں جیسے رہنا، کہنا سہنا وغیرہ۔اسی طرح میں بھی مہک کو مہک کی بجائے امالہ کر کے مہک پڑھتا ہوں لیکن بعض شعراء جب ضرورت سے زیادہ اپنی اردو جتاتے ہیں تو وہ مچل کے وزن پر مہک پڑھتے ہیں۔(مکتوب ۳ دسمبر ۱۹۹۳ء) چاروں اور بچی شہنائی اور پر زبر نہیں ہے۔یہ لفظ اور ہے اور نہیں۔اور کا مطلب ہوتا ہے ☆ مزید جبکہ اور کا مطلب ہے سمت۔جس طرح چور کو چور پڑھنا جائز نہیں اسی طرح اور کو اور پڑھنا جائز نہیں۔☆ (مکتوب ۵/ دسمبر ۱۹۹۳، صفحه ۸) لفظ ضائع کا ایک تلفظ اگر چہ ضایا بھی چل پڑا ہے مگر جب ادبی کلام پڑھا جائے تو پھر اس کو ضایا پڑھنا یا لکھنا غلط ہے اور اس کو پسند نہیں کیا گیا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس سے بہت الرجک تھے۔لیکن اب یہ عرف عام میں مستعمل ہو چکا ہے۔اس لئے اس کے اوپر کوئی گرائمیرین دھونس ڈالنی مناسب نہیں۔زبان دانی کی دھونس لفظوں پر ضرور چلتی ہے لیکن جب کوئی لفظ غلط العام ہو جائے تو پھر اس کے سامنے ادب کی ساری لگا میں ڈھیلی پڑ جاتی ہیں۔چنانچہ باوجود اس کے کہ حضرت مصلح موعود کافی عرصہ لفظ ضایا کے خلاف احتجاج فرماتے رہے ہیں مگر پھر بھی ”ضایا راہ پاہی گیا۔آپ اس ناپسندیدگی کا اظہار ا کثر ایسے پڑھنے والوں پر فرماتے تھے جو آپ کے کلام میں ”ضایا میرا پیغام پڑھ دیا کرتے تھے۔اور ایسے اعلیٰ او بی کلام میں واقعی ضائع کو ضائع ہی پڑھنا چاہئے اور ضایا نہیں کہنا چاہئے۔باقی جو عام درست الفاظ ہیں ان میں اگر کوئی غلط پڑھے تو بہت تکلیف دیتا ہے مثلا نشان کو نشان پڑھنا۔۔۔(مکتوب ۵ اپریل ۱۹۹۵ء صفحه (۳) 40