کلامِ طاہر — Page 162
بھی پڑتا ہے اور استثناء کی نئی کھڑکیاں کھولی جاتی ہیں۔دنیا کے تمام چوٹی کے شعراء نے کیفیات کے اعلی تقاضوں پر بار ہازبان دانی کی قیود کو قربان کیا ہے۔شیکسپیر میں بھی یہ بات ملتی ہے اور غالب میں بھی۔اور دیگر شعراء میں بھی اپنے اپنے مرتبہ اور اسلوب کے اعتبار سے کچھ نہ کچھ ایسی مثالیں دکھائی دیتی ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اردو اور عربی کلام میں بھی یہی بالا اصول کارفرما ہے که شوکت مضمون اور کیفیات کی لطافت پر زبان دانی کے نسبتا ادنی تقاضوں کو قربان کیا جائے۔66 (مكتوب ١٦ جنوری ۱۹۹۳ء صفحه ۱) آئین سخن اور آئین حق اس ٹھوس تحریر کے ساتھ اسی مکتوب سے ایک ہلکا پھلکا ٹکڑا بھی پیش کرتی ہوں۔انداز لطیف لیکن سبق بہت ثقیل تحریر فرماتے ہیں: مکرم محترم سلیم صاحب شاہجہانپوری نے خوب لکھا ہے کہ آئین سخن میں اصلاح تجویز کرنا گستاخی شمار نہیں ہوتا ، یہ بالکل درست ہے۔اسی سے حوصلہ پاکر میں ان کی خدمت میں یہ بھی گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ آئین سخن میں اصلاح قبول نہ کرنا بھی غالبا گستاخی شمار نہیں ہوگا۔خصوصاً جبکہ پاسِ ادب رکھتے ہوئے احترام اور معذرت کے ساتھ ایسا کیا جائے۔دوسری بات یہ ہے کہ آئین سخن ہی کی بات نہیں، آئین حق یعنی سچائی کے آئین میں بھی تو ازل سے یہی دستور چلا آ رہا ہے کہ صحیح گستاخی شمار نہیں ہوتی۔نماز با جماعت میں بھی اللہ تعالیٰ نے یہی سبق ہمیں دیا ہے۔سبحان اللہ ! کیا پاکیزہ طریق اصلاح کا سکھایا۔سبحان صرف اللہ ہی کی ذات ہے۔(مکتوب ۱۶ جنوری ۱۹۹۳ء صفحه ۲) فلسفہ اصلاح