کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 150 of 265

کلامِ طاہر — Page 150

پھر بیٹھ کر مزے سے کسی بند کمرے میں اک دوسرے کو حلوے پہ حلوہ کھلائیں گے چھیمی نے سوچا کیوں نہ اکیلا ہی کھاؤں میں باورچی خانہ چوری چھپے کیوں نہ جاؤں میں ہوشیار بننے والوں کو بدھو بناؤں میں جب مجھ کو کھانے دوڑیں، کہیں بھاگ جاؤں میں یہ سوچ کے چلا گیا باورچی خانے میں باورچی تھا مگن وہاں حلوہ پکانے میں اُس سے کہا میں تھک گیا ہوں آنے جانے میں بھائی ہیں میرے منتظر اندر زنانے میں جب پھر دیگچی اٹھا کے وہ تیزی سے چل پڑا حلوہ کی طرح منہ سے بھی پانی اُبل پڑا کیا علم تھا کہ راہ میں دیکھے گا قیص کو دیکھا تو ڈر سے سینہ میں دل ہی اچھل قیص نے کہا تمہیں امی بلاتی ہیں امی کا نام سنتے ہی بس سنتے ہی بس وہ ٹھیٹھر گیا دیکھئے کہ کہاں ٹوٹی جا کمند طوه قریب دہن ہی آیا تھا ، گر گیا پڑا 150