کلامِ طاہر — Page 118
آنکھ سے میری برستا وہ لہو کہ پہلے شاید ہی اور کسی آنکھ سے برسا ہوتا ڈوب جاتا اُسی خونابہ میں افسانہ عشق بہت آنکھ کھلتی تو بس اک خواب سا دیکھا ہوتا ہوتا مری آنکھ سے سیلاب بلا نہ وہ موجیں کہیں ہوتیں نہ وہ دریا ہوتا چھا چکی ہوتی جدائی کی سسکتی ہوئی رات مجھے بانہوں میں شب غم نے لپیٹا ہوتا چار سُو تم نہ دکھائی کہیں دیتے۔اک میں اپنے ہی اشکوں میں بھیگا ہوا لیٹا ہوتا دُور اک عارض گیتی ڈھلکتا ہوا اشک دیده شب افق چھلکتا ہوتا عکس اُس میں ہر لحظہ لرزتا ہوا بجھتا ہوا اک حسیں چاند سے چہرے کا جھلکتا ہوتا کس نے کوٹا ہوا ہوتا مرے چندا کا قرار کروٹیں کس کی جدائی میں بدلتا ہوتا 118