کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 116 of 265

کلامِ طاہر — Page 116

دل شوریدہ کا خواب تم نے بھی مجھ سے تعلق کوئی رکھا ہوتا کاش یوں ہوتا تو میں اتنا نہ تنہا ہوتا لب پر آجاتا کبھی دل سے اچھل کر مرا نام تو میں اس جبش لب کی طرح یکتا ہوتا دل میں ہر لحظہ دھڑکتا یہ تمہارا احسان اُس کی ہر ضرب سے سینے میں اُجالا ہوتا ظلمتیں دل کی اُسی نور سے ہوتیں کافور نور کتنا مدھر جب تصور کے نہاں خانہ میں ھنگامہ عشق کتنا رو پہلا ہوتا ہم کیا کرتے تو کچھ اُس کا نہ چرچا ہوتا 116