کلامِ طاہر — Page x
نمبر شمار ابتدائی کلام کے چند نمونے نظم کا پہلا مصرع 55 تیرے لئے ہے آنکھ کوئی اشکبار دیکھ 56 57 لوح جہاں پہ حرف نمایاں نہ بن سکے بہیں اشک کیوں تمہارے انہیں روک لو خدارا 58 کبھی اپنا بھی اک شناسا تھا 59 میرے بھائی آپ کی ہیں سخت چنچل سالیاں 60 گو جدائی ہے کٹھن دور بہت ہے منزل 61 62 63 64 65 2 بذل حق محمود سے میری کہانی کھو گئی منتظر میں ترے آنے کا رہا ہوں برسوں اک پیسہ پیسہ جوڑ کر بھائیوں نے شوق سے یہ دو آنکھیں ہیں شعلہ زا۔یا جلتے ہیں پروانے دو ہیں لوگ وہ بھی چاہتے ہیں دولتِ جہاں ملے 66 اُف یہ تنہائی تری الفت کے مٹ جانے کے بعد صفحہ نمبر 138 140 141 142 144 145 146 147 149 151 152 154