کلامِ طاہر — Page 81
اجنبی غم یہ نظم کالج کے زمانہ میں مری میں کہی تھی لیکن اس وقت نامکمل چھوڑ دی گئی تھی۔اس کے بعد ۱۹۹۳ء میں بعض اور بند شامل کر کے اسے مکمل کیا گیا۔پر اسرار دھندلکوں میں سمویا ہوا غم اک جذبہ مہم بن کر چھا گیا رُوح فضاؤں میں يسكتنا ہوا إحساس الم ديدة ڈھلکے لگا تنبر بن جانے وکھ ہے تمہارا کہ زمانے کا ستم أجنبي ہے کوئی مہمان چلا آیا ہے يني چہرے کو جان ہے اس نہ پہچان کو چھپائے نی نقاب چلا آیا ہے شب 6 81