کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 29 of 265

کلامِ طاہر — Page 29

میرے آنسو تمہیں دیں زم زندگی ، دُور تم سے کریں ہر غم زندگی میہماں کو ملے جو دم زندگی قوم ، وہی امرت بنے میزباں کے لئے نور کی شاہراہوں پہ آگے بڑھو ، سال کے فاصلے لمحوں میں طے کرو خوں بڑھے میرا تم جو ترقی کرو ، قرة العین ہو سارباں کے لئے تم چلے آئے میں نے جو آواز دی ، تم کو مولیٰ نے توفیق پرواز دی پر کریں ، پر شکستہ وہ کیا جو پڑے رہ گئے پشمک دُشمناں کے لئے میری ایسی بھی ہے ایک رُودادِ غم ، دل کے پردے پر ہے خون سے جو رقم دل میں وہ بھی ہے اک گوشہ محترم ، وقف ہے جو غم دوستاں کے لئے یاد آئی جب اُن کی گھٹا کی طرح ، ذکر اُن کا چلا ئم ہوا کی طرح بجلیاں دل پہ کڑکیں بلا کی طرح ، رُت بنی خُوب آہ و فغاں کے لئے پھر افق تا افق ایک قوس قزح ، اُن کے پیکر کا آئینہ بن کر بھی اک حسیں یاد لے جیسے انگڑائیاں عالم خواب میں خُفتگاں کے لئے ہر تصور سے تصویر ابھرنے لگی ، نام بن کر زُباں پر اُترنے لگی ذکر اتنا حسیں تھا کہ ہر لفظ نے فرط الفت سے بوسے زباں کے لئے اُن کی چاہت میرا مدعا بن گیا ، میرا پیار اُن کی خاطر دُعا بن گیا بالیقیں اُن کا ساتھی خدا بن گیا وہ بنائے گئے آسماں کے لئے ، Seats 29