کلامِ طاہر — Page 160
بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلی علی رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود آج جو شاہ کار آپ کی خدمت میں پیش کر رہی ہوں وہ کچھ ٹکڑوں کو جوڑ کر بنا ہے۔ہرنکڑ اسیدی؛ آقائی حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی کی تخلیق ہے۔میں نے صرف انہیں ترتیب دے کر فریم کیا ہے۔یہ میرے پاس ایک امانت تھی جو اس کے حقداروں یعنی ساری جماعت کو ادا کر رہی ہوں۔پس منظر یہ ہے کہ 1991ء میں کلام طاہر دیکھ کر خیال آیا کہ طباعت شایان شان نہیں ہے چھوٹی سے پتلی سی کتاب ، کتابت کی غلطیاں نظمیں نامکمل سرورق پر دھندلی تصویر۔یہ کتاب تو اس سے بہت بہتر طریق پر شائع ہونی چاہئے ، کیوں نہ لجنہ کراچی یہ کام کرلے۔اپنی رفیقہ کار مسز برکت ناصر سے مشورہ کیا تو وہ اچھل پڑیں۔ہم نے دعا کی اور حضور پُر نور سے اجازت حاصل کرنے کے لئے خط لکھ دیا۔۱۲ مارچ ۱۹۹۲ء کا تحریر کردہ مکتوب موصول ہوا: ' آپ نے جو کلام طاہر کے متعلق لکھا ہے اس پر آپ کا شکریہ۔اس میں کئی جگہیں ایسی ہیں جن میں ابھی تک پوری تسلی نہیں۔شاید کسی وقت اصلاح کا موقع مل جائے۔لیکن آپ کے نزدیک کوئی خطی رہ گئی ہے تو اس کی طرف بھی متوجہ کریں اس کو بھی ٹھیک کر لیں گے اور پھر انشاء اللہ چھپوانے کی اجازت بھی دی جاسکتی ہے۔کچھ پرانی نظموں میں سے بھی ایک آدھ شامل کی جا سکتی ہے۔خاکسار نے سرخوشی میں چند کتابت کی غلطیاں لکھیں اور کچھ اشعار پر نظر ثانی کی درخواست کی۔مقصد صرف یہ تھا کہ بات آگے بڑھے اور حضور اپنے کلام پر نظر ثانی کا کام شروع فرما دیں۔حضور پر نور کا پذیرائی کا مکتوب ملا : " آپ کا خط ملا۔نثر میں ایسے لطیف اور اعلیٰ پائے کے شعر بہت کم پڑھنے میں آتے ہیں جیسے آپ کا یہ خط ہے۔بعض چھوٹے چھوٹے لطیف اشاروں کے ساتھ بعض مضامین پر ایسے عمدہ تبصرے آپ نے کئے ہیں جیسے کسی خوبصورت سیرگاہ میں جاتے ہوئے انسان کبھی دائیں کبھی بائیں 6