کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 148 of 265

کلامِ طاہر — Page 148

آج آیا بھی تو بدلا ہوا محبوب آیا غیر کے بھیس میں لپٹا ہوا کیا خوب آیا اس طرح آیا کہ اے کاش کاش نہ آیا ہوتا مجھ سے چھینیا ہوا۔سو پردوں میں محبوب آیا جسم اس کا ہے سب انداز مگر غیر کے ہیں آنکھ اس کی ہے پر اطوار نظر غیر کے ہیں چاند تھا میری نگاہوں کا مگر دیکھو تو بام و در جن کے اجالے ہیں وہ گھر غیر کے ہیں اے مجھے ہجر میں دیوانہ بنانے والے غم فرقت میں شب و روز ستانے والے اے کہ تو تحفہ درد و غم لایا ہے دیر کے بعد بڑی دُور سے آنے والے جا کہ اب قرب سے تیرے مجھے دُکھ ہوتا ہے اے شب غم کے سویرے مجھے دُکھ ہوتا ہے (غالبا ۱۹۴۵ء) 148