کلامِ طاہر

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 121 of 265

کلامِ طاہر — Page 121

تیرا احسان ہے کہ تو نے مجھے گیتوں کے لئے کچن لیا ہے کہ میں بنتا رہوں ، گاتا رہوں۔گیت زندگی میں نہ کثافت رہی کوئی نہ جمود ساری بے ربطگی۔موسیقی میں تحلیل ہوئی ایسی موسیقی۔جو اک آبی پرندے کی طرح اپنے پر وسعتِ افلاک میں پھیلائے ہوئے نیلگوں بحر محبت یہ تھی محو پرواز اپنی ہی موچ طرب میں۔تھی فضا پر رقصاں اُسکے پر چھونے لگے پر تیرے قدم کی محراب کوئی باقی نہ رہی پھر کسی معبد کی تلاش اتنا نشہ ہے ترے پیار کے گیتوں میں کہ میں دوست کہہ دیتا ہوں تجھ کو 121