کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 278

139 ده گل رعنا کبھی دل میں جو مہماں ہو گیا گوشہ گوشہ خانہ دل کا گُلستاں ہو گیا محسن بد ہیں کی محبت حق کی خاطر چھوڑ دی کا فر نعمت بنا لیکن مسلماں ہو گیا دل کو ہے وہ قوت و طاقت عطا کی ضبط نے نالہ جو دل سے اُٹھا میرے وہ طوفاں ہو گیا کم نہیں کچھ کیمیا سے سوز الفت کا اثر اشک خون جو بھی بہا لعل بدخشاں ہو گیا آپ ہی وہ آگئے بیتاب ہو کہ میرے پاس درد جب دل کا بڑھا تو خود ہی درماں ہو گیا سامنے آنے سے میرے میں کو ہوتا تھا گریز دل میں میرے اچھپا غیروں سے پنہاں ہو گیا میں دکھانا چاہتا تھا ان کو حال دل مگر وہ ہوئے ظاہر تو دل کا درد پنہاں ہو گیا دہ پہلے تو دل نے دکھائی خود سری بے انتہا رفتہ رفتہ پھر یہ سرکش بھی مسلماں ہو گیا عشق کی سوزش نے آخر کر دیا دونوں کو ایک وہ بھی حیران رہ گیا اور میں بھی حیران ہو گیا اس دلِ نازک کے صدقے جو مری کفیرش کے وقت دیکھ کر میری پریشانی پریشاں ہو گیا اک مکمل گلستاں ہے وہ برانچہ دہن جب ہوا وہ خندہ زن ہیں گل بیکاں ہو گیا آگیا غیرت میں فوراً ہی میرا عیسی نکن مرتے ہی پھر زندگی کا میری ساماں ہو گیا میں بڑھا اک گز تو وہ سو گز بڑھے میری طرف کام مشکل تھا مگر اس طرح آساں ہو گیا حیف اس پر جس کو ردی جان کر پھینکا گیا درنہ ہر ہر گل چین کا نذرِ جاناں ہوگیا اخبار الفضل بلد 2 لاہور پاکستان 11 اگست 1948 276