کلام محمود مع فرہنگ — Page 272
133 ذکر خدا پر زور دے انظلمت دل مٹائے جا گوہر شب چراغ بن، دنیا میں جگمگائے جا دوستوں دشمنوں میں فرق داب سلوک نہیں آپ بھی جامہ کے اڈا غیر کو بھی پلائے جا خالی اُمید ہے فضول سنی عمل بھی چاہیے ہاتھ بھی تو ہلائے جا اس کو بھی بڑھائے جا جو گے تیرے ہاتھ سے زخم نہیں علاج ہے میرا نہ کچھ خیال کر زخم یونہی لگائے جا علاج گائے مانے نہ مانے اس سے کیا بات تو ہو گی دو گھڑی قصہ دل طویل کر بات کو تو بڑھائے جا کشور دل کو چھوڑ کر جائیں گے وہ بھلا کہاں؟ آئیں گے وہ یہاں ضرور تو نہیں ہیں بلائے جا منزل عشق کے گھن راہ میں راہیں بھی ہیں پیسے نہ مڑ کے دکھ تو آگے نام بھائے جا عشق کی سوزشیں بڑھا جنگ کے شعلوں کو دیا پانی بھی سب طرف چھڑک آگ بھی تو لگائے جا 270 اخبار الفضل جلد 2 لاہور پاکستان 9 جولائی 1948