کلام محمود مع فرہنگ — Page 264
128 به غزل جو در حقیقت پندرہ سولہ سال پہلے لکھی گئی تھی مگر کہیں گھر ہو گئی۔اب یاد سے کام لے کر کچھ نئے شعر کہہ کر مکمل ہوئی ہے (مرزا محمود احمد) نگاہوں نے تیری مجھ پر کیا ایسا فسوں ساقی کہ دل میں جوش دخشت ہے تو سٹریس ہے جنوں ساقی جیوں تو تیری خوشنودی کی خاطر ہی جیوں ساتی مروں تو تیرے دروازے کے آگے ہی کروں ساقی پلائے تو اگر مُجھ کو تو میں اتنی پہیوں ساقی رہوں تا حشر قدموں پر ترے میں سرنگوں ساقی تیری دُنیا میں فرزانے بہت سے پائے جاتے ہیں مجھے تو بخش دے اپنی محبت کا جُنوں ساتی سوا اک تیرے میخانے کے سب کے خانے خالی ہیں پلائے گر نہ تو مجھ کو تو پھر میں کیا کروں ساقی تجھے معلوم ہے جو کچھ میرے دل کی تمنا ہے مرا ہر ذرہ گویا ہے زباں سے کیا کہوں ساقی 262