کلام محمود مع فرہنگ — Page 192
تیری نگاہ نطف اُتارے گی مجھ کو پار گتے ہیں مجھ سے عشق کے پیجر و بر کہاں بیجرو چکولے کھا رہی ہے مری ناؤ دیر سے دیکھوں کہ پھینکتی ہے قضا و قدر کہاں دیکھو کہ دل نے ڈالی ہے جا کر کہاں کمند گودا تو ہے یہ بحر محبت میں، پر کہاں ممکن کہاں کہ غیر کرے مُجھ سے ہمسری وہ دل کہاں اوہ گردے کہاں وہ جگہ کہاں اخبار الفضل مجلد 14-19 اکتوبر 1926 ء 190