کلام محمود مع فرہنگ — Page xiv
79 81 82 84 86 88 90 97 110 113 115 116 117 120 122 125 126 33 جگہ دیتے ہیں جب ہم ان کو اپنے سینہ و دل میں 34 یہیں سے اگلا جہاں بھی دکھا دیا مجھ کو 35 دل پھٹا جاتا ہے مثل ماہی بے آب کیوں 36 عہد شکنی نہ کہ واہل وفا ہو جاؤ 37 ده قید نفسِ دَنی سے مجھے چھڑائیں گے کب 38 درد ہے دل میں مرے یا خار ہے 39 خُدا سے چاہیے ہے کو لگانی 40 کیا سب میں ہو گیا ہوں اس طرح زار و نزار ج 41 42 43 44 45 دوڑے جاتے ہیں باقیہ تمنا سوئے باب اسے چشمہ علم و ہدی اسے صاحب فہم و ذکا محمود اسحالِ زار کیوں ہو نہ کے رہے نہ رہے غم نہ پی سیو باقی ملت احمد کے ہمدردوں میں غم خواروں میں ہوں 46 محمد عربی کی ہو آل میں برکت 47 آہ دُنیا پر کیا پڑی افتاد ہے دست قبله نما لا إله إلا الله 48 49 غم اپنے دوستوں کا بھی کھانا پڑے ہیں III