کلام محمود مع فرہنگ — Page 65
برکت ہے سب کی سب اسی جان جہان کی دور نہ میری بساط ہے کیا اور کیا بہوں میں؟ شیطاں سے جنگ کرنے میں جاں تک لے آؤں گا یہ عہد ذات باری سے اب کر چکا ہوں میں افسوس ہے کہ اس کو ذرا بھی خبر نہیں جس سنگ دل کے واسے یہیں مرتا ہوں میں کہتا ہوں سچ کہ فکر میں تیری ہی فرق ہوں اسے قومشن کہ تیرے لیے کر رہا ہوں میں کیا جانے تو کہ کیسا مجھے اضطراب ہے کیسائیاں ہے سینہ کہ دل تک کباب ہے حالات پر زمانے کے کچھ تو دھیاں کرو بے فائدہ نہ عمر کو یوں رائیگاں کرو شیطاں ہے ایک عرصہ سے دنیا پر حکمراں اٹھو اور اُٹھ کے خاک میں اس نہاں کرو دکھلاؤ پھر صحابیہ سا جوش و خروش تم دُنیا پر اپنی قوت بازو عیاں کرو پھر آزماؤ اپنے ارادوں کی نیت گی پھر تم دلوں کی طاقتوں کا امتحاں کرو دل پھر مُخالِفان محمد کے توڑ دو پھر دشمنان دین کو تم بے زباں کرد پھر ریزہ ریزہ کر دو ثبت شرک و کفر کو کفار و مشرکین کو پھر نیم جاں کرو پھر خاک میں ملا دو یہ سب تضر شيعت نام و نشاں مٹا کے نہیں بے نشاں کرو پہنچا کے چھوڑو جھوٹوں کو پھر ان کے گھر تنگ ہاں پھر سمت طبع کی جولانیاں کرو ہاں پھر میلان فوج کینیں کو پچھاڑ دو میدان کار زار میں پھر گر میاں کرو 65 59