کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 64

سارا جہاں میرے لیے تاریک ہو گیا جو تھا مثال سایہ کہ مجھ سے جُدا ہوا رہتی ہے چاک جیب شکیبائی ہر گھڑی دامانِ منبر رہتا ہے ہر دم پھٹا ہوا اک عرصہ ہو گیا ہے کہ میں سوگوار ہوں بیداد ہائے دہر سے زار و نزار ہوں مدت سے پارہ ہائے جگر کھا رہا ہوں میں رنج ویمن کے قبضہ میں آیا ہوا ہوں میں میری کمر کو قوم کے غم نے دیا ہے توڑ کسی بہت لا میں ہانے ہوائیتکا ہوں میں کمر غم کوشاں حصول مطلب دل میں ہوں اس قدر کہتا ہوں تم کو سچ ہمتین التجا ہوں میں کچھ اپنے تئن کا فکر ہے مجھ کو نہ جان کا دین محمدی کے لیے کر رہا ہوں میں میں رو رہا ہوں قوم کے مرجھائے چوں پر بلبل تو کیا ہے اس کے بین خوشنوا ہوں میں بیمار روح کے لیے خاک شفا ہوں میں ہاں کیوں نہ ہو کہ خاک در مصطفے ہوں میں پھر کیوں نہ مجھ کو مذہب اسلام کا ہو فکر جب جان و دل سے معتقد میرا ہوں میں دل اور جگر میں گھاؤ ہوئے جاتے ہیں کہ جب چاروں طرف فساد پڑے دیکھتا ہوں میں مرگ پسر پہ پیٹتی ہے جیسے ماں کوئی حالت پہ اپنی قوم کی یوں پیٹتا ہوں میں دل میرا ٹکڑے ٹکڑے ہوا ہے خُدا گواہ غم دور کرنے کے لیے کوشش ہا ہوں میں رہا تسکین دے مرے لیے لبس اک وجود تھا تم جانتے ہو اس سے بھی اب تو بدا ہوں میں 64