کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 46

18 محمد پر ہماری جاں خدا ہے کہ وہ کوئے صنم کا رہنما ہے میرا دل اس نے روشن کر دیا ہے اندھیرے گھر کا میرے وہ دیا ہے خبرے اے مسیحا دردِ دل کی تیرے پیار کا دم گھٹ رہا ہے دل آفت زدہ کا دیکھ کر حال میرا زخم جگہ بھی ہنس رہا ہے کسی کو بھی نہیں مذہب کی پروا ہر اک دنیا کا ہی شیدا ہوا ہے بھنور میں پھنس رہی ہے کشتی دیں تلاطم بحر ہستی میں بپا ہے سروں پر چھا رہا ہے ابر قامت اُسی سے جنگ ہے جو نا خُدا خُدایا اک نظر اس تفتہ دل پر کہ یہ بھی تیرے در کا ایک گدا غیم اسلام میں میں جاں بلب ہوں کلیجہ میرا منہ کو آ رہا ہے ہمارے حال پر ہنستی ہے گو قوم ہمیں پر اس پر رونا آ رہا مینا کو نہیں خوف وخطر کچھ حمایت پر تکلا اس کی خُدا ہوئے ہیں لوگ دشمن امر حق کے اسی کا نام کیا صدق و صفا ہے؟ حیات جاوداں ملتی ہے اس سے کلام پاک ہی آب بت ہے ہے ہے ہے ہے دم عیسی سے مُردے جی اُٹھے ہیں جو اندھے تھے انہیں اب سوجھتا ہے 46