کلام محمود مع فرہنگ — Page 23
8 جدھر دیکھو ابر گنہ چھا رہا ہے گناہوں میں چھوٹا بڑا مُبتلا ہے میرے دوستو شرک کو چھوڑ دو تم کہ یہ سب بلاؤں سے بڑھ کر کہلا ہے یہ دم ہے غنیمت کوئی کام کر لو کہ اس زندگی کا بھروسا ہی کیا ہے یہ محمد یہ ہو جان قرباں ہماری کہ وہ کوئے دلدار کا رہنما ہے غَضَبْ ہے کہ یوں شرک دُنیا میں پھیلے مرا سینہ جلتا ہے دل پھینک رہا ہے دنیا خدا کے لیے مرد میداں بنو تم کہ اسلام چاروں طرف سے گھرا ہے تم اب بھی نہ آگے بڑھو تو غضب ہے کہ دشمن ہے بے کی تمھارا خُدا ہے خُدا بجا لاؤ احکام احمد خُدا را ذراسی بھی گریم میں بوئے وفا ہے صداقت کو اب بھی نہ جانا تو پھر کب؟ کہ موجود اک ہم میں مرد خُدا ہے تری عقل کو قوم کیا ہو گیا ہے اُسی کی ہے بدخواہ جو کر نہنما ہے وہ اسلام دنیا کا تھا جو مُحافظ وُہ خود آج مُختاج امداد کا ہے بپا کیوں ہوا ہے یہ طوفاں یکا یک بتاؤ تو اس بات کی وجہ کیا ہے یہی ہے کہ گمراہ تم ہو گئے ہو نہ پہلا سا علم اور نہ وہ انتقا ہے اگر رہنما اب بھی کوئی نہ آئے تو سمجھو کہ وقت آخری آگیا ہے 23