کلام محمود مع فرہنگ — Page 395
یوں اندھیری رات میں اسے چاند تو چپ کا نہ کر و سمندر کے کنارے چاند کی سیر نہایت پر لطف ہوتی ہے۔اس سفر کراچی میں ایک دن ہم رات کو کلفٹن کی سیر کے لئے گئے۔میری چھوٹی بیوی صدیقہ بیگم سلمہا اللہ تعالیٰ ، میری تینوں لڑکیاں ناصرہ بیگم کلمہا اللہ تعالی امته الرشید بیگم سلمها الله تعالی، امتہ العزیز سلمها الله تعالی ، امتہ الودود مرحومہ اور عزیزم منصور احمد سلمه الله تعالیٰ میرے ساتھ تھے۔رات کے گیارہ بجے چاند سمندر کی لہروں میں ملتا ہوا بہت ہی بھلا معلوم دیتا تھا اور اوپر آسمان پر وہ اور بھی اچھا معلوم دیتا تھا۔جوں جوں ریت کے ہموار کنارہ پر ہم پھرتے تھے نطف بڑھتا جاتا تھا اور اللہ تعالیٰ کی قدرت نظر آتی تھی۔تھوڑی دیر ادھر ادھر ٹہلنے کے بعد ناصرہ بیگم سلمہا اللہ اور صدیقہ بیگم جن دونوں کی طبیعت خراب تھی تھک کر ایک طرف ان چٹائیوں پر بیٹھ گئیں جو ہم ساتھ لے گئے تھے۔ان کے ساتھ عزیزم منصور احمد سلمہ اللہ تعالے بھی جاکھڑے ہوئے اور پھر عزیزہ امتہ العزیز بیگم سلمہا اللہ تعالی بھی وہاں چلی گئی۔اب صرف میں، عزیزہ امتہ الرشید بیگم سلمہا اللہ تعالیٰ اور عزیزہ امتہ الودود مرحومہ پانی کے کنارے پر کھڑے رہ گئے میری نظر ایک بار پھر آسمان کی طرف اُٹھی اور میں نے چاند کو دیکھا جو رات کی تاریخی میں عجیب انداز سے اپنی چمک دکھا رہا تھا۔اس وقت قریباً پچاس سال پہلے کی ایک رات میری آنکون میں پھر گئی جب ایک عارف باللہ محبوب ربانی نے چاند کو دیکھ کر ایک سرد آہ کھینچی تھی اور پھر اس کی یاد میں دوسرے دن دنیا کو یہ پیغام سنایا تھا۔چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بے کل ہو گیا کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اس میں جمالِ یار کا پہلے تو تھوڑی دیر میں یہ شعر پڑھتار ہا پھر میں نے چاند کو مخاطب کر کے اسی جمالِ یار والے محبوب کی یاد میں کچھ شعر خود کہے۔جو یہ ہیں :- یوں اندھیری رات میں اسے چاند تو چپکا نہ کر حشر اک سیمیں بدن کی یاد میں برپا نہ کر 388