کلام محمود مع فرہنگ — Page 355
193 خدا کی رحمت سے بہر عالم افق کی جانب سے اللہ رہا ہے رگ محبت پھڑک رہی ہے دل ایک شعلہ بنا ہوا ہے تمھارے گھٹتے ہوئے ہیں سائے ہمارے بڑھتے ہوئے ہیں سائے ہماری قسمت میں یہ لکھا ہے تمھاری قسمت میں وہ لکھا ہے ادھر بھی دیکھو اُدھر بھی دیکھو زمیں کو دیکھو فلک کو دیکھو تو راز کھل جائے گا یہ تم پر کہ بندہ بندہ ، خُدا خُدا ہے دہ شمس دُنیائے معرفت جو چنگ رہا تھا کبھی فلک پر خُدا کے بندوں کی غفلتوں سے وہ دلدلوں میں پھنسا ہوا ہے کلام یزداں پر آج ملا نے ڈھیروں کپڑے چڑھا رکھے ہیں کبھی جو تھا زندگی کا چشمہ وہ آج جو ہر بنا ہوا ہے نگاو کافر زمیں سے نیچے نگاہ مومن فلک سے اوپر وہ فخر دوزخ میں جل رہا ہے یہ اپنے مولیٰ سے جا ملا ہے تلاش اس کی عبث ہے واعظ کجا ترا دل کجا وہ دلبر وہ تیرے دل سے نکل چکا ہے نگاہ مومن میں کہش رہا ہے 351