کلام محمود مع فرہنگ — Page 343
187 میرے آقا ! پیش ہے یہ حاصل شام و سحر سینہ صافی کی آہیں آنکھ کے نغل دگہر میں نے سمجھا تھا جوانی میں گزر جاؤں گا پار آب جو دیکھا سامنے ہیں پھر وہی خوف وخطر کثرت آنام سے ہے کم ہوئی میری کمر آب یہی اس کا مداوا ہے کہ کر دیں در گزر آپ تو ہیں مالک ارض و سماے میری جاں آپ کا خادم مگر پھرتا ہے کیوں یوں در بدر بے سرو ساماں ہوں اس دنیا میں اے میرے خُدا اپنی جنت میں بنا دیں آپ میرا ایک گھر آدم اول سے لے کر وہ ہے زندہ آج تک ایسی طاقت دے کچل ڈالوں میں اب شیطاں کا سر مومن کامل کا گھر ہے جنت آراف میں اور دو نرخ کا میں ہے جو بنا ہے مَن كَفَرُ وہ بھی اوجھیل ہے مری آنکھوں سے جو ہے سامنے ہے ترے علم ازل میں جو ہے فائب مستر میرے ہاتھوں میں نہیں ہے نیک ہو یا بد ہو وہ ملک میں تیری ہے یارب خیر ہو وہ یا کہ شکر آج سب مسلم خواتیں کی ہیں عریاں پہنتیں تو نے فرمایا تھا ہے کپڑے سے باہر مَا ظَهَر سایہ کفار سے رکھیو مجھے باہر ہمیں اسے میرے قدوس اسے میرے مکیک بحر و بر لاکھ حملہ کن ہو مُجھ پر فتنہ زندیقیت بیچ میں آ جائیو بن جائیو میری سپر ہیں ترے بنے مگر ہاتھوں کی طاقت سلب ہے کفر کا خیمہ لگا ہے قریہ قریہ گھر یہ گھر جن کو حاصل تھا تقرب دُہ ہیں اب مکتوب دہر اور ہیں مسند پر بیٹھے جو ہیں نیچر اور خز اخبار الفضل جلد 11 31 دسمبر 1957ء راده - پاکستان