کلام محمود مع فرہنگ — Page 327
180 آدم سے لے کر آج تک بچھا تو چھوڑا نہیں شیطان ساتھی ہے تر لیکن وہ بے بس انقرین ترا ترائین گو بار ہا دیکھا انہیں لیکن وہ لذت اور تھی دل سے کوئی پوچھے ذرا لطف نگاہ اولیں ان سے اسے نسبت ہی کیا وہ نور ہیں یہ مار ہے گروہ جائے تو میں ان کے قدم میری جبیں سے ہی وہیں نتو بار تو بہ توڑ کر مجھکتی نہیں میری نظر جھکتی ہے ناکردہ گند ان کی نگاہ شہر مگیں آنے کو وہ تیار تھے ہمیں خود ہی کچھ شرما گیا ان کو بٹھاؤں میں کہاں دل میں صفائی تک نہیں وہ ابدال کیا، اقطاب کیا، جبریل کیا، میکال کیا جب تو خدا کا ہو گیا سب ہو گئے زیر نگیں اس پر ہوئے ظاہر محمد مصطفے حب الواری بالا ہے نہ افلاک سے گز دیو! میری زمیں نہ کھولا ہے کسی تدبیر سے باب لقائے دل رُبا آئے ہیں کس انداز سے اوڑھے بداء المرسلیں آدوست دامن تھام میں ہم مصطفے کا ر سے ہے اک یہی بچنے کی ہے اک یہی جب انہیں کیا فکر ہے تجھ کو اگر شیطاں ہے بازی لے گیا دُنیا خُدا کی بنک ہے تیری نہیں میری نہیں 325 اخبار الفضل مجلد 8 لاہور پاکستان 23 نومبر 1954ء