کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 302

159 قید کافی ہے فقط اس محسن عالم گیر کی تیرے عاشق کو بھلا حاجت ہی کیا زنجیر کی وہ کہاں اور ہم کہاں پر رحم آڑے آگیا رہ گئی عزت ہمارے نالۂ دینگیر کی تب کہیں جا کہ ہوا حاصل وصال ذات پاک مدتوں میں نے پرستش کی تری تصویر کی مجھ کو لڑنا ہی پڑا اعداء کینہ توڑ سے جنگ آخر ہو گئی تدبیر سے تقدیر کی جن کے سینوں میں نہ دل ہوں بلکہ پتھروں سے کیا پہنچے ان تک ہمارے نالہ دگیر کی مید زخمی کی تڑپ میں تم نے پایا ہے۔مزہ ہے میرا دل جانتا لذت تمہارے تیر کی مجھ کو رہتی ہے ہمیشہ اس کے ہاتھوں کی تلاش فکر رہتی ہے تجھے صبح و مساکف گیر کی جستجو نے بخش نہ کرو تو دوسرے کی آنکھ میں فکر کر نادان اپنی آنکھ کے شہتیر کی 300 اخبار الفضل مبلد 5 لاہور پاکستان 9 اگست 1951 ء