کلام محمود مع فرہنگ — Page 296
153 خطاب به ذات باری تعالیٰ تم نظر آتے ہو ذرہ میں غائب بھی ہو تم سب خطاؤں سے بھی ہو تم پاک تائب بھی ہو تم فہم سے بالا بھی ہو فہم مجسم بھی ہو تم عام سے عام بھی ہو سر غرائب بھی ہو تم تم ہی آتا ہو میرے تم ہی مرے مالک ہو میرے سامات نغم و رنج میں اب بھی ہو تم غیر کی نصرت و تائید سے ہو مُنتَفى اور پھر صاحب اجناد و کتائب بھی ہو تم منبع خُلق تم ہی ہو میرے خالق باری صلب بھی تم ہو میری جان تائب بھی ہو تم 294 اخبار الفضل جلد 5 لاہور پاکستان 11 جولائی 1951