کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 7

سب جو آپس میں ہیں یوں ہو رہے شیر وشکر اس لیے ہے کہ نظر سب پہ ہے اُن کی یکسر ہند میں ریل اُنھوں نے ہی تو جاری کی ہے آمد ورفت میں میں سے بہت آسانی ہے صیغہ ڈاک کو اُنھوں نے ہی ترقی دی ہے ملک میں چاروں طرف تار بھی پھیلائی ہے تاکہ انصاف کے پانے ہیں نہ ہو کچھ دقت منصفوں اور جوں تک کی بھی کی ہے کثرت علم کا نام و نشاں یاں سے بیٹا جاتا تھا شوق پڑھنے کا دلوں میں سے اُٹھا جاتا تھا کوئی عالم کبھی اس ملک میں آجاتا تھا دیکھ کر اس کا یہ حال اشک کہا جاتا تھا یہ وہ بیمار تھا جس کو سبھی رو بیٹھے تھے ہاتھ سب اس کی شفایابی سے دھو بیٹھے تھے پر وہ رب جس نے کہ سب کچھ ہی کیا ہے پیدا نہ تو ہے باپ کسی کا نہ کسی کا بیٹا سارے گندوں سے ہے پاک اور ہے واجد یکتا نہ وہ تھکتا ہے نہ سوتا ہے نہ کھاتا پیتا رحم کرتا ہے ہمیشہ ہی وہ ہم بندوں پر کرسٹی عدل پر بیٹھے گا جو روز محشر 7