کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 281

142 کھلے جو آنکھ تو لوگ اُس کو خواب کہتے ہیں ہو عقل اندھی تو اس کو شباب کہتے ہیں کسی کے حسن کی ہے اس میں آب کہتے ہیں بنی ہے عین اسی سے تراب کہتے ہیں دہ عمر جس میں کہ پاتی ہے نقل نور وجلا تم اس کو شیب کہ ہم شباب کہتے ہیں سُرور رُوح جو چاہے تو دل کی سُن آواز کہ تار دل ہی کو چنگ رباب کہتے ہیں و سبیل کا چشمہ کہ جس سے ہو سیراب حسد سے اس کو کرو کیوں سراب کہتے ہیں نگاہ یار سے ہوتے ہیں سب طبق روشن رموز عشق کی اس کو کتاب کہتے ہیں ہمیں بھی تجھ سے ہے نسبت او رند بادہ نوش نگاہ یار کو ہم بھی شراب کہتے ہیں اور جو چاہے تو تو وہی غیر فانی بن جائے وہ زندگی کہ جسے سب جناب کہتے ہیں تو یہ فخر کم نہیں مجھ کو کہ دل مسکن کے میرا دو پیار سے مجھے خانہ خراب کہتے ہیں بڑھا کے نیکیاں میری خطائیں کر کے معاف وہ اس ظہور گریم کو حساب کہتے ہیں کو فراق میں جو مری آنکھ سے بہے تھے اشک انہی سے حسن نے پائی ہے آب کہتے ہیں قدم بڑھا کہ ہے دیدار یار کی ساعت اُلٹنے والا ہے مُنہ سے نقاب کہتے ہیں 279 اخبار الفضل مجلد 3 لاہور پاکستان 31 دسمبر 1949 ء