کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 274

135 اپن ہو چکا ہے ختم اب چکر تری تقدیر کا سونے والے اٹھے کہ وقت آیا ہے اب تذبیر کا شکوه جور فلک کب تک رہے گا ہر زباں دیکھ تو اب دوسرا رخ بھی ذرا تصویر کا ئز کاغذی جامہ کو پھینک اور آہنی زرہیں ہیں وقت اب جاتا رہا ہے شوخی تحریر کا نیزہ دشمن ترے سینہ میں پوستہ نہ ہو اُس کے دل کے پار ہو سوفا تیرے تیر کا اپنی خوش اخلاقیوں سے موہ لے دشمن کا دل دنبری کر چھوڑ سودا نالۂ دل گیر کا مدتوں کھیلا کیا ہے لعل و گوہر سے عدو اب دکھا دے تو ذرا جو ہر اُسے شمشیر کا جو ہر پیٹ کے دھندوں کو چھوڑ اور قوم کے نروں میں ہاتھ میں شمشیر سے عاشق نہ بن کف گیر کا دھندوں کوچھو ملک کے چھوٹے بڑے کو وعظ کر پھر وعظ کر دغظ کرتا جا ، نہ کچھ بھی فکر کہ تاثیر کا گل کے کاموں کو بھی منگن ہو اگر تو آج کہ اے مری جان وقت یہ سرگز نہیں تاخیر کا ہو چکی مشق ستم آنوں کے سینوں پر بہت اب ہو دشمن کی طرف رخ خنجر و شمشیر کا اے میرے فریا درکھ دے کاٹ کر کوہ وجک تیرا فرض اولیں لانا ہے جُوئے شیر کا ہو رہا ہے کیا جہاں میں کھول کر آنکھیں تو دیکھ وقت آپہنچا ہے تیرے خواب کی تعبیر کا اخبار الفضل جلد 2 لاہور پاکستان 14 جولائی 1948 ء 272