کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 4

4 یاد ایام کہ تھے ہند پر اندھیر کے سال ہر گلی کوچہ پڑا ہر شہر یہ آیا تھا وبال روز روشن میں لٹا کرتے تھےلوگوں کے مال دل میں اللہ کا تھا خوف نہ حاکم کا خیال ہر طرف شور و فغاں کی ہی صدا آتی تھی سخت سے سخت دلوں کو بھی جو تڑپاتی تھی رحم کرنا تو کجا ظلم ہوا تھا پیشہ لوگ بھولے تھے کہ ہے نام مروت کی کا گم چار سُو ملک میں تھا ہو رہا شور و غوغا بلکہ سچ ہے کہ نمونہ وہ قیامت کا تھا کبھی آتا نہ کوئی دوست کسی دوست کے کام دل سے تھا محو ہوا مہر و محبت کا نام سلطنت میں بھی تری نزیل کے نمایاںتھے نشاں صاف ظاہر تھا کہ ہے چند دنوں کی مہماں قاضی موفتی بھی کھوبیٹھے تھے اپنا ایماں رحم وانصاف کے وہ نام سے ہی تھے انجاں سےبھی ایسے لوگوں سے تھا انصاف کا پا نا معلوم خیال انصاف کا تھا جن کے دلوں سے معدوم افسر فوج لڑائی کے فنوں میں پچوپٹ منہ سے جو بات نکل جائے پھر اس پچھی ہٹ رہتی آپس میں بھی ہر وقت تھی اُن کی کھٹ پٹ تھے وہ بتلاتے مراک دوسرے کو ڈانٹ ڈپٹ 4