کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 254

121 معصیت و گناہ سے دل مرا داغ دار تھا پھر بھی کسی کے وصل کے شوق میں بیقرار تھا بے عمل و خطا شعار ہے کس بے وقار تھا پر میری جان یہ تو سورج کی ہیں را شکار تھا ہجر میں وصل کا مزا پالیامیں نے نہیں لب پہ تو تھا نہیں مگر ان میں ان کی پیار تھا تھا سوں تو تجھ کو دیکھ کر جاوں تو تجھ پہ ہو نظر موت سے تھا کے دریغ اس کا ہی انتظار تجھ دیکھ پہ پر آہ آو غرب کم نہیں غیظ شہر جہاں سے کچھ جس سے ہوا جہاں تباہ دل کا مرے غبار تھا شکوہ کا کیا سوال ہے اُن کا نقاب بھی ہے ہر منہ سے میں داد خواہ تعادل میں میں شرمسار تھا اُن دیر کے بعد وہ ملے اُٹھ کے ملے کیسے سکت دل میں خوشی کی لہر تھی آنکھ سے اشکبار تھا شکر خدا گزرگئی ناز و نیاز میں ہی عُمر مجھ کو بھی ان سے عشق تھا اُن کو بھی مجھ سے پیار تھا 252 اخبار الفضل جلد 34 - 3 جنوری 1946