کلام محمود مع فرہنگ — Page 221
95 پڑھ چکے احرار بس اپنی کتاب زندگی ہو گیا پھٹ کر ہوا ان کا حجاب زندگی ٹوٹنے نکلے تھے وہ امن وسکون بیکساں خود انہی کے لٹ گئے حُسن و شباب زندگی دیکھ لینا اُن کی اُمیدیں نہیں گی حسرتیں اک پریشاں خواب نکلے گا یہ خواب زندگی فتنه و افساد دست ششم و منزل و ابتذال اس جماعت کا ہے یہ لب لباب زندگی پڑ رہی ہیں انگلیاں ارباب حل وعقد کی بج رہا ہے اس طرح ان کا رباب زندگی کیا خبر ان کو ہے کیا جام شہادت کا مزا دیکھ کر خوش ہو رہے جو سراب زندگی ہے حیات شمع کا سب ما حصل سوز و گداز ایک دل پر خون ہے یہ الکتاب زندگی دلبرا الزام تو دیتے ہیں چھپنے کا تجھے اوڑھے بیٹھے ہیں مگر ہم خود نقاب زندگی دست بعزرائیل میں مخفی ہے سب از حیات موت کے پیالوں میں مبتی ہے شراب زندگی غفلت خواب حیات عارضی کو دور کر ہے تجھے گر خواہش تعبیر خواب زندگی 219 اخبار الفضل جلد 2 - 6 ستمبر 1935ء