کلام محمود مع فرہنگ — Page xxiii
337 339 340 344 346 347 348 351 353 354 355 356 357 357 358 358 359 186 اے خدا ! دل کو میرے مزرع تقومی کر دیں 187 میرے آقا بپیش ہے یہ حاصل شام وسحر ہوئی بلے آدم و حوا کی منزل اُنس و قربت سے 188 189 بلا کی آگ برستی ہے آسماں سے آج 190 ایک دل شیشہ کی مانند ہوا کرتا ہے 191 آمد کا تیری پیارے ہو انتظار کب تک 192 جناب مولوی تشریف لائیں گے تو کیا ہو گا 193 194 195 196 197 198 خدا کی رحمت سے ہر عالم افقی کی جانب سے اُٹھ رہا ہے قدموں میں اپنے آپ کو مولا کے ڈال تو دل دے کے مُشتِ خاک کو دلدار ہو گئے روتے روتے ہی کٹ گئیں راتیں اُس کی چشم نیم وا کے یہیں بھی سرت اروں میں ہوں یا فاتح روج ناز ہو جا 199 کو بھر گنہ میں بے بس ہو کر 200 201 202 ہو فضل تیرا یا رب یا کوئی اہتِ لا ہو نکال دے میرے دل سے خیال غیروں کا پڑے سو رہے ہیں جگا دے ہیں XII