کلام محمود مع فرہنگ — Page 195
نہیں ہے جس کے ہاتھ میں کوئی بھی کے دیہی تو ہوں جو ہے قدیر خیر وشر میرا خدا وہی تو ہے بھنور میں پھنس رہی ہے گو نہیں ہے خوف ناؤ کو بچایا جس نے نوح کو تھا نا خُدا وہی تو ہے ہے جس کا پھول خوش نما ہے جس کی چال جان قرا میرا چمن وہی تو ہے میری صبا وہی تو ہے از احمدی جنتری 1928 مطبوعہ دسمبر 1927 م 193