کلام محمود مع فرہنگ — Page xxi
293 294 295 296 297 298 299 300 301 302 305 306 307 308 309 310 311 152 نکل گئے جو ترے دل سے خار کیسے ہیں تم نظر آتے ہو ذرہ میں غائب بھی ہو تم 153 ! 154 اے شاہ معالی آبھی جا 155 ارادے غیر کے ناگفتنی ہیں 156 زمیں کا بوجھ وہ سر پر اُٹھائے پھرتے ہیں 157 یہ کیسی ہے تقدیر جو مٹتے نہیں ہٹتی 158 آنکھ گر مشتاق ہے حلوہ بھی تو بیتاب ہے 159 قید کافی ہے فقط اس حسن عالمگیر کی 160 توبہ کی بیل پڑھنے لگی ہے منڈھے یہ آج 161 کمر پہ حاوی وہ حماقت ہے کہ جاتی ہی نہیں 162 ایک دل شیشہ کی مانند ہوا کرتا ہے 163 جو کچھ بھی دیکھتے ہو فقط اس کا نور ہے 164 اس کی رنائی میرے قلب حزیں سے پو چھٹے 165 جونہی دیکھا انہیں چشمہ محبت کا اُبل آیا 166 آؤ تمھیں بتائیں محبت کے راز ہم 167 جب وہ بیٹھے ہوئے ہوں پاس میرے 168 عاشقوں کا شوق قربانی تو دیکھ X