کلام محمود مع فرہنگ — Page xx
272 273 274 275 276 277 278 279 280 281 282 283 284 285 288 290 292 135 ہو چکا ہے ختم اب چکر تیری تقدیر کا 136 چھوڑ کر چل دئے میدان کو دوباتوں سے 137 آنکھ میں وہ ہماری رہے ابتدا یہ ہے 138 عاشق تو وہ ہے جو کہ کہے اور سُنے تیری دہ گل رھنا کبھی دل میں جو مہماں ہو گیا 139 140 وہ آئے سامنے منہ پر کوئی نقاب نہ تھا 141 142 143 دل دے کے ہم نے ان کی محبت کو پالیا کھلے جو آنکھ تو لوگ اس کو خواب کہتے ہیں آ کہ تیری راہ میں ہم آنکھیں بچھائیں 144 سُنانے والے افسانے ہما کے 145 بتاؤں تمہیں کیا کہ کیا چاہتا ہوں 146 عشق نے کر دیا خراب مجھے 147 اے بے یاروں کے یار نگاہ لطف غریب مسلماں پر 148 149 قینی کو بھلایا ہے تو نے تو احمق ہے ہشیار نہیں حریم قدس کے ساکن کو نام سے کیا کام 150 چاند چکا ہے گال ہیں ایسے 151 جو دل پر زخم لگے ہیں مجھے دکھا تو سہی IX