کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xviii of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page xviii

226 227 230 231 232 233 235 236 238 239 239 240 241 243 245 246 247 101 ہم کس کی محنت میں دوڑے چلے آئے تھے 102 بادۂ عرفاں پلا دے ہاں پلا دے آج تُو 103 یوں اندھیری رات میں اسے چاند تو چھکا نہ کر 104 یہ نور کے شعلے اُٹھتے ہیں میرا ہی دل گرمانے کو 105 اک دن جو آہ دل سے ہمارے نکل گئی 106 میری رات دن بس یہی اک صدا ہے 107 زخم دل جو ہو چکا تھا دتوں سے مندمل 108 ایمان مجھ کو دیدے عرفان مجھ کو دیدے گھر سے میرے دُہ گلعذار گیا 110 بادل ریش و حال زار گیا 109 111 اے میری جاں ہم بندے ہیں اک آقا کے آزاد نہیں 112 وہ میرے دل کو چٹکیوں میں کل کل کر یوں فرماتے ہیں 113 انكِي عَلَيْكِ كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ 114 دہ یار کیا جو یار کو دل سے اُتار دے 115 کبھی حضور میں اپنے جو بار دیتے ہیں 116 ذرہ ذرہ میں نشاں ملتا ہے اس دلدار کا 117 دست کوتاہ کو پھر دراز می بخش VII