کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 117

45 بلت احمد کے ہمدردوں میں نغم خواروں میں ہوں بے وفاؤں میں نہیں ہوں کی وفاداروں میں ہوں فَخر ہے مجھ کو کہ ہوں میں خدمتِ سرکار میں ناز ہے مجھ کو کہ اس کے ناز برداروں میں ہوں سر میں ہے جوشِ جنوں دل میں بھرا ہے نور و علیم میں نہ دیوانوں میں شامل ہوں نہ ہشیاروں میں ہوں پوچھتا ہے مُجھ سے وہ کیونکر تیرا آنا ہوا کیا کہوں اُس سے کہیں تیسرے طلب گاروں میں ہوں میں نے مانا تو نے لاکھوں نعمتیں کی ہیں عطا پر ہمیں اُن کو کیا کروں تیرے طلبگاروں میں ہوں شاہدوں کی کیا ضرورت ہے کیسے انکار ہے ئیں تو خود کہتا ہوں مولی میں گنہ گاروں میں ہوں حملہ کرتا ہے اگر دشمن تو کرنے دو اُسے دہ ہے اغیاروں میں مکیں اس یار کے یاروں میں ہوں 117