کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 98

چھوڑے جاتے ہیں مجھے ہوش و حواس کوقتل کیوں کیوں نہیں باقی رہا دل پر مجھے کچھ اختیار کون ہے صیاد میرا کس کے پھندے میں ہوں میں کس کی افسونی نگاہ نے کر لیا مجھ کو شکار مرغ دل میرا پھنسا ہے کس کے دام عشق میں کس کے نقشِ پا کے پیچھے اُڑ گیا میرا غبار صفحۂ دل سے مٹایا کیوں مجھے احباب نے کیوں میرے دشمن ہونے کیوں مجھ سے ہے لکین و نقار جو کوئی بھی ہے وہ مجھ سے بر سر پر خاش ہے ہر کوئی ہوتا ہے آکر میری چھاتی پر سوار سرنگوں ہوں میں مثال سایۂ دیوار کیوں پشت کیوں خم ہے ہوا ہوں اس قدر کیوں زیر بار در کون زیبا ہے بہار باغ و گل مثل غزاں افسردہ کن ہے جہاں میری نظر میں مثل شب تاریک و تار 98