کلام محمود مع فرہنگ — Page 98
چھوڑے جاتے ہیں مجھے ہوش و حواس کوقتل کیوں کیوں نہیں باقی رہا دل پر مجھے کچھ اختیار کون ہے صیاد میرا کس کے پھندے میں ہوں میں کس کی افسونی نگاہ نے کر لیا مجھ کو شکار مرغ دل میرا پھنسا ہے کس کے دام عشق میں کس کے نقشِ پا کے پیچھے اُڑ گیا میرا غبار صفحۂ دل سے مٹایا کیوں مجھے احباب نے کیوں میرے دشمن ہونے کیوں مجھ سے ہے لکین و نقار جو کوئی بھی ہے وہ مجھ سے بر سر پر خاش ہے ہر کوئی ہوتا ہے آکر میری چھاتی پر سوار سرنگوں ہوں میں مثال سایۂ دیوار کیوں پشت کیوں خم ہے ہوا ہوں اس قدر کیوں زیر بار در کون زیبا ہے بہار باغ و گل مثل غزاں افسردہ کن ہے جہاں میری نظر میں مثل شب تاریک و تار 98