کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 88

38 درد ہے دل میں میرے یا خار ہے کیا ہے آخر اس کو کیا آزار ہے اف گناہوں کا بڑا انبار ہے اور میری جاں حیف و زار ہے جلوۂ جاناں و دید یار ہے خواب میں جو ہے وہی بیدار ہے اپنی شوکت کا وہاں اظہار ہے اپنی کمزوری کا یاں اقرار ہے گو مجھے مدت سے یہ اصرار ہے منہ دکھانے سے انھیں انکار ہے کوئی خوش ہے شاد ہے سرشار ہے کوئی اپنی جان سے بیزار ہے میرے دل پر رنج و غم کا بار ہے ہاں خبر لیجے کہ حالت زار ہے میرے دشمن کیوں ہوئے جاتے ہیں لوگ مجھ سے پہنچا اُن کو کیا آزار ہے میری غم خواری سے ہیں سب بے خبر جو ہے میرے در پئے آزار ہے فکر دیں میں گھل گیا ہے میرا جنم دل میرا اک کو و آتش بار ہے کیا ڈراتے ہیں مجھے خنجر سے وہ جن کے سر پر کھینچ رہی تلوار ہے میری کمزوری کو مت دیکھیں کہ میں جس کا بندہ ہوں بڑی سرکا ر ہے بادشاہوں کو معرض پردہ سے کیا ہم نے کھینچی آپ ہی دیوار ہے وہ تو بے پردہ ہے پر آنکھیں ہیں بند کام آساں ہے مگر دشوار ہے 88 88