کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page x of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page x

اور زندہ کتاب وہی انسان کی فوز و فلاح، روحانی عظمت اور نظریاتی حسن کی آسمانی فضائیں ہیں۔وہی مسیحائی کے ہے جو نئے ساقی نے جی بھر کے پلائی ہے۔تصنع ، بناوٹ اور ملمع سے پاک سادہ بے تکلف بیان، دہلی کی نکھری ہوئی اُردو جو حقیقی معنوں میں آپ کی مادری زبان تھی۔حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد اپنے ایک مضمون میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں۔بحیثیت زبان دان آپ کا مقام اس صدی کی چیدہ شخصیتوں میں شمار ہوتا ہے۔اردو معرفی اور فارسی ہر زبان میں آپ کا منظوم کلام آپ کی زبان دانی پر ہمیشہ گواہ رہے گا۔“ الفضل فروری 1970 ) حقہ کام کی تیار میں پہلی پلی دفعہ چھپنے والی نظموں سے موازنہ کیا تو یہ دلچسپ حقیقت کھلی کہ آپ چھپنے کے بعد بھی اپنے کلام میں ردو بدل فرمایا کرتے تھے۔مثال کے لئے دو اشعار دیکھیئے۔وہ تو کچھ رکھتی بھی تھی پر میں تو خالی ہاتھ ہوں بے عمل ہوتے ہوئے ہے جستجوئے دست یار دست یار کی جگہ پہلے وصل یار تھا۔خالی ہاتھ اور بے عملی کے تسلسل میں دست یار لانے سے مضمون اور الفاظ کی خوبصورت مطابقت نے حسن میں اضافہ کیا ہے۔دل میں آ آ کے تری یاد نے اسے ربّ ودود بار ہا پہروں تلک خون رلایا ہم کو رب ودود کی جگہ پہلے پیارے خدا تھا۔رہ رہ کر یاد آنے پر پہروں تک خون رونے والے کو اس ہے کہ جس نے یہ جوت جگائی ہے وہ دنیا کے روایتی محبوب کے برعکس اپنی صفت ودود کے ساتھ رجوع برحمت ہوگا۔ان تبدیلیوں کو دیکھتے ہوئے کلام محمود آپ کی حیات میں چھپنے والے آخری مجموعہ کلام کے مطابق لکھوائی ہے۔کچھ سہو کتابت کی غلطیاں درست کی ہیں۔الفاظ کو کھلا کھلا لکھوایا ہے اعراب لگائے ہیں۔نیز اس کتاب میں پہلی دفعہ حضرت مصلح موعود کے اپنی نظموں کے بارے میں تحریر فرمائے ہوئے نوش بھی شامل ہیں۔کتابت